روز بروز
معنی
١ - مسلسل، برابر، متواتر۔ "خاطر مدارات کے اخراجات میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔" ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٥ فروری، ١٢ ) ٢ - رفتہ رفتہ، بتدریج۔ "ہمارے معاشرے میں سوچ کے دھارے روز بروز خشک ہوتے جارہے ہیں۔" ( ١٩٨٤ء، ترجمہ روایت اور فن، ٢٨ )
اشتقاق
فارسی اسم 'روز' کے بعد حرفِ جار 'ب' لگانے کے بعد اسی اسم (روز) کا اضافہ کر کے مرکب کیا گیا ہے۔ اردو میں بطور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مسلسل، برابر، متواتر۔ "خاطر مدارات کے اخراجات میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔" ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٥ فروری، ١٢ ) ٢ - رفتہ رفتہ، بتدریج۔ "ہمارے معاشرے میں سوچ کے دھارے روز بروز خشک ہوتے جارہے ہیں۔" ( ١٩٨٤ء، ترجمہ روایت اور فن، ٢٨ )